دنیا کی سب سے بڑی سائنسی دستاویزی صحت کی ویب سائٹ آپ کے خاندان کی خوشی اور صحت کے لئے، سائنس اور ایمان کے ساتھ ہم توازن کرتے ہیں

86030134

ایتھروسيکلیروسس

ایتھروسيکلیروسس



پانچ زبردست حیرت انگیز غذائیں جو دل اور دماغ کے ایتھروسيکلیروسس میں مدد کرسکتی ہیں:بوبلی، زیتون کے پتے، مچھلی کا تیل، انگور کے بیج اور لہسن(ہم پہنچے گے آپ تک آپ دنیا میں جہاں بھی ہوں)۔

کیا آپ دل یا دماغ کےایتھروسيکلیروسس میں مبتلا ہوئے ہیں؟ کیا آپ کبھی دل یا دماغ میں خون کے  جمنے میں مبتلا ہوئے ہیں  اللہ نہ کرےاور کیا آپ نے کبھی  اس بارے میں سوچا ہے کہ انجائنا اور دماغ کا فالج اور  آدھے دھڑ کا فالج (پیراپلجیا) کیسے ہوتا ہے؟کیا آپ ایتھروسيکلیروسس ، دماغ کے فالج اور دل کے دورے  اور دوسری بیماریوں کے بارے میں پریشان ہوئے ہیں کیوں کہ آپ کی فیملی میں یہ موروثی طور پر موجود ہیں؟کیا آپ نے ناممکن کوشش کی خود سے مدد  کی کہ ان  لاتعداد وجوہات اور پریشانی کے میکانزم  سے جان چھڑائی جائے لیکن کوئی فائدہ نہ ہوا؟کیا آپ نے ہمیشہ خواہش کی ہے کہ قدرتی کھانوں کی جو ان تمام ممکنہ میکانزم کے خلاف مدد کرسکیں  جو دل کے ایتھروسيکلیروسس کا باعث بنتے ہیں اور آپ کی زندگی کو محفوظ کرنے سے بچاتے ہیں اور آپ  کو آپ کی فیملی، دوستوں اور اپنے پیاروں کے پاس رکھے؟

جواب: قرآنی غذائی  سائنس کے اصولوں میں سے ایک  ہے کہ بیماری کو، اس کے ممکنہ عوامل اور اس کے میکانزم کو سمجھیں۔ اس کے مطابق ہم ہر ممکنہ عوامل اور ہر میکانزم پر حدف بنانے کے قابل ہیں۔ اگر ہم ہر وجہ اور ہر میکانزم کا علاج کرسکیں تو اللہ کی طرف سے شفاء ہوگی۔ "ہر بیماری کی دوا ہے اور اگر بیماری میں مناسب دواملے  تو مریض اللہ کی طرف سے صحت یاب ہوگا" صحیح مسلم بہت سے مطالعات دیکھاتے ہیں کہ ہماری معیادی بیماریاں کئی میکانزم اور عوامل سے جنم لیتی ہیں۔ اسی لئے ہمارا مقصد متوازی غذائی نظام ہے اور اس کے اہم اصولوں میں  ایک  یہ ہے کہ ان کے عوامل اور میکانزم کو سمجھیں تاکہ قدرتی طور پر ان تمام کو بغیر کسی خطرے یا مضر اثرات کےحدف بنایا جائے ۔

مطالعات ظاہر کرتے ہیں کہ ہماری معیادی بیماریاں انتہائی الجھی ہوئی اور کئی میکانزم کی بھی ہوتی ہیں۔ میں یہاں ایک سوال بھیج سکتا ہوں: کیا کوئی اکیلا بیس منزلہ عمارت  بغیر کسی اوزارکے تعمیر کرسکتا ہے؟ بلاشبہ آپ کا جواب ہوگا نہیں

بالکل، بیس منزلہ عمارت بنانے کے لئے ہمیں مختلف  تعمیراتی اور سول انجینئیروں، الیکٹریشنوں، پلمبروں، بڑھئیوں، لوہاروں، شیشے اور ایلومینیم کے لئے مزدوروں، صفائی کی ٹیموں اور دوسری ٹیموں کی ضرورت ہو گی۔ ان سب کو ایک ساتھ ایک مناسب طریقے سے کام کرنا ہے اور بغیر تصادم اعلٰی تعاون کی ضرورت ہے تا کہ وہ اپنا مقصد حاصل کرسکیں اور ایک مضبوط خوبصورت عمارت بناسکیں۔

حقیقت میں ہم سمجھتے ہیں کہ رگوں کے پھیلاؤ سے علامات کا علاج  ہے جب کوئی مریض انجائنا کا درد محسوس کرتا ہے یا دماغ کی نسوں کے پھیلنے سے جب سیرےبرال اسکیمیا کی علامات ظاہر ہوں جیسا کہ ٹرانسینٹ آئیسیمک حملہ (TIA Transient Ischemic Attack)

یہ زیادہ سے زیادہ اور بنیادی حل نہیں ہے بلکہ یہ صرف علامات کا علاج ہے بجائے وجوہات کے۔ اگر ہم بیماری کی علامات کو روکنے میں بڑی حد تک کامیابی حاصل کرنا اور اس کی بڑھنے سے بچانا چاہتے ہیں  ، ہم پہلے ہمیں سمجھنا پڑے گا کہ ایتھروسلیروسس کیا ہے اور یہ کن میکانزم کی وجہ ہے اور علامات کو بڑھاتی ہے تا کہ ہم جان سکیں کہ کیسے ان کا علاج کرنا ہے۔

ایتھروسيکلیروسس رگوں کی دیواروں کے سخت اور موٹا ہونے سے شروع ہوتی ہے تو بجائے خون کے لئے موزوں رہنے کے اور قدرتی رگوں کے ذریعے بڑی مقدار میں خون کے بہاؤ  کو جانے دینے کے ، رگوں کی دیواریں سخت  اور تنگ ہوتی ہیں،

اور اس کی سختی کی وجہ، جس کا مطلب ہے لچک ،رگ کی لچک یا  پھیلاؤ کا کھونا، یہ کچھ مقدار میں خون کو ایک چھوٹے قطر میں جانے دیتا ہے جس سے رگیں مزید نہیں پھیل سکتی ہیں۔

جس کے نتیجے میں عضو کو سیلروسائزڈ (سخت ہوئی ) رگ غیر مصالحانہ نمایا ں خطرہ ہوتا ہے ، چاہے دل میں، دماغ میں یا جسم میں کہیں بھی۔ یہ خطرہ خون ، آکسیجن اور غذاؤں کی ضرورت کے مطابق مقدار میں کمی کو پیش کرتا ہے جو اعضاء تک سخت رگ کے ذریعے لازمی پہنچنا ہوتی ہیں۔(Hirai et.al., 1989) , (Ku, 1997) , (Laurent et.al., 2006) .

اگر یہ اہم عضو ہوں تو خطرہ بہت بڑھ جائے گا جیسا کہ دماغ یا دل، جو کہ تمام دوسرے اعضاء کے کام کرنے کے لئے ضروری سمجھے جاتے ہیں۔ مطالعات بتاتے ہیں کہ دوسرے عوامل بھی ہیں جو سیلیروسس کو بڑھا سکتے ہیں (رگوں کی سختی کو) اور ان کے واقع ہونے کو بڑھاتے ہیں۔ یہ براہ راست وجوہات اور میکانزم سمجھے جاتے ہیں  جو وقوع ہونے کے ساتھ عمل کرتا ہے۔
ان عوامل میں سب سے اہم ہے  بلند رگوں کا فشار خون اس کے ساتھ ساتھ ذیابیطس، خون میں کولیسٹرول کی بلند سطح اور تمباکو نوشی۔ ان تمام چار عوامل کا براہ راست ان میکانزم سے قریبی تعلق ہوتا ہے اور یہ عوامل آریتھروما کے واقع ہونے کے ہیں جو ایتھروسلیروسس کی اگلی حالت ہےجو کئی آکسیڈائزڈ کولیسٹرول کی تہوں میں اور بہت سے اجزاءمیں جمع ہونے کے دوران واقع ہوتا ہے  بشمول رگوں کی دیوار کے نرم اندرونی حصے پر سوزشی عناصر۔
یہ رگوں کے قطر میں کمی اجزاء کے جمع ہونے کے مطابق جورگوں کی تنگی کا باعث بنتی ہے اور اس میں سے اعضاء کے لئے خون کا بہاؤ کم ہوجاتا ہے۔ اریتھروما کے اجماع میں اضافہ  انجائنا کی وجہ ہوسکتا ہے اور یہ علامات جب ورزش کی جاتی ہے تو سامنے آتی ہیں۔
(اس لئےفزیشن ایتھروسيکلیروسس کی تشخیص کے لئے  دباؤ کا ٹیسٹ لیتے ہیں جہاں مریض کو 10 منٹ کے دوران  متواتر دباؤ بڑھانے کی کوشش کرنے کو کہا جاتا ہے جب کہ ایکوکارڈیوگرافی (دل کو جانچتی ہے)علامات کے لئے انجائنا کے واقع ہونے سے جڑی ہوتی ہے۔ دوسری صورت میں، ٹیسٹ کو روک دیا جاتا اگر مریض انجائنا پیکٹورس کی علامات کی وجہ سے ورزش کو جاری نہ رکھ سکے)۔
جیسا کہ خون اور آکسیجن کی مقدار جو رگوں کے ذریعے دل کو معمول سے کم دی جارہی ہو ایک طرف رگوں کی سختی کی وجہ سے اور دوسری طرف ایتھروما کے جمع ہونے کی وجہ سے۔ آکسیجن کے کم آنے کی وجہ سے دل کے پٹھوں کے خلیے ہوا کے بغیر سانس لیں گے (آکسیجن کے خلل کے ساتھ)
یہ مالیکیولوں کی توانائی کم بنانے کا باعث بنتا ہے جتنی  دل کے لئے ضروری ہوتی ہے (19 اے ٹی پی  کے بجائے 2 اے ٹی پی) اورایسڈز بنانے کا باعث بھی بنتے ہیں جیسے لیکٹک ایسڈ اور بٹائیرک ایسڈ اور فضلہ جو عام طور پر نتیجا ہے آکسیجن کی غیر موجودگی میں کلوگوز کے جلنے سے یا اس میں خامی  کی صورت میں
ان ایسڈ اور دوسری چیزوں کا جمع ہونا  دل کے پٹھوں اور فائبرز کے درمیان اعصابی نسوں کو متحرک کرنا بند کرتا ہے جو درد کا باعث بنتا ہے جسے بطور انجائنا  جانا جاتا ہے،(Neely, 1974) .
یہ درد  دباؤ سے بڑھتا ہے اور آرام سے کم ہوتا ہے  اور ممکن ہے بائیں بازو، کندھے یا جبڑے تک پھیل جائے اور ممکن ہے یہ پسینے کے ساتھ یا سانس میں دشواری (ڈائیس پنیا)سے جڑا ہو۔
اور ہمیں یہ  نہیں بھولنا چاہئیے کہ ایتھروما کے رگ کے اندر جمع ہونے سے رگ کی ہموار سطح خراب ہوجاتی ہے جو کہ نرم تھی اور کھردری ہوجاتی ہے۔(Wilke et.al., 1999) . (Sylvén, 1993) .
یہ وجوہات خون کے پیٹیلیٹس میں چپک پیدا کرتی ہیں کسی کھردری  سطح کے ساتھ ملنے سےچپکتے ہیں۔ خون کے پلیٹیلیٹس کو جمع کرنے میں مدد کرتے ہیں جگر سے پروٹین فائبرس کی مدد کے ساتھ جو رگ کو روکنے کا باعث  یا جسے ہم بحیثیت خون کے جمنے یا لوتھڑے سے جانتے ہیں۔(Fuster et.al., 1992), (Badimon et.al., 1993) .
بعد میں ہم سمجھتے ہیں کہ کیسے رگیں سخت ہوتی ہیں اور نتیجے میں انجائنا  یا فالج ، خون کا جمنا اور دل کا دورہ یا جسم میں کہیں بھی کچھ ہوسکتا ہے ،
اور بعد میں ہم اہم عوامل اور میکانزم کو سمجھتے ہیں جو رگوں کے سخت اور ایتھروما  کے ہونے کاباعث ہوسکتے ہیں ، یہاں قدرتی اشیاء کے سلسلے کے استعمال کے لئے متوازی غذا کی تجویز ہے جو ایتھروما کے مریضوں کو قدرتی فائدہ دیتی ہیں۔
ان قدرتی اشیاء میں ایک اومیگا 3 ہے، مطالعے کے مطابق جو تجویز کرتے ہیں کہ اومیگا 3 رگوں کے سلیروسس کے عوامل پر نمایاں اثرا ت انداز ہوتے ہیں جو رگوں کے فشار خون کو کم کرنے میں مدد کرتا ہے، پس ہم ممکنہ رگوں کے سلیروسس اور ایتھروما  کی کمی میں حصہ لیتے ہیں،
اومیگا 3 خون کے پلیٹیلیٹس کے اجماع سے بچاؤ میں دوسرا کردار ادا کرتا ہے۔ یہ اسے اہم کردار دیتا ہے دل یا دماغ پر یا کسی دوسرے رگوں کے حملوں سے بچانے کے لئے خود اسے خون کے جمنے سے بچاتا ہے۔ اومیگا 3 خون میں چربی کی سطح کو کم کرنے اور خاص طور پر ٹرائی گلائی سیرائیڈز پر اثر ڈالتا ہے
جو چربی کی سطح کو کم کرنے کے میکانزم سےایتھروسلیرسس سے بچانے میں  دل کی رگوں کے لئے فائدے مند ہوتا ہے 
مطالعات یہ بھی دیکھاتے ہیں کہ آئسکیمیک دل کی بیماری دل کی شرح کے بڑھنے ، دل کی دھڑکن کی خرابی اور دل کی حرکت کے بے ترتیب ہونے سے جڑی ہوتی ہے  جو بعض اوقات شدید ہوسکتی ہے اور یہاں اومیگا 3 دوبارہ کردار ادا کرتا ہے(Lavie et.al., 2009) .
دل کی حرکت کی بے ترتیبی پر  اس کے ساتھ زبردست انسدادی اثر ڈالتا ہے  (دل کی دھڑکن کی بے ترتیبی) ٹاکیاریتھمیا میں دل کی دھڑکن کی کمی میں۔ درج ذیل  مطالعہ بتاتا ہے کہ کچھ فائدے جو اومیگا 3 آرٹیریوسلریسس اور ایتھروما پرمریضوں کے لئے ظاہر کرتا ہے۔(Lavie et.al., 2009) , (Harris et.al., 2008) .
اور کوئی حیران ہوسکتا ہے کہ کیسے صرف ایک مرکب یہ تمام فائدے اور میکانزم ایک ساتھ دینے کی پیشکش کرسکتا ہے اور ہم تجویز کرتے ہیں کہ  آپ  یہ فلم دیکھیں جو اللہ کی تخلیق اور انسانوں کی تخلیق میں فرق دیکھاتی ہے۔
لیکن ہم متوازی غذائی نظام میں کسی ایک مرکب کو اپنا کر محدود علاج  تک نہیں رہیں گے حالانکہ یہ کئی ایک صلاحتیں رکھتا ہے۔ ہمارا یقین ہے کہ ہر ایتھروسلیرسس کے نقصان دہ عوامل  کے کئی میکانزم ہیں۔
اسی لئے، حضرت محمد ﷺ کے بتائے ہوئے اصول کے مطابق ہمیں ہر مؤثر وجہ کو ایک کے بعد ایک دیکھنا پڑے گا۔ "اگر بیماری کا علاج مناسب دوا سے ہے تو صحت یابی ہو گی اللہ کی طرف سے" صحیح مسلم
پس، ہم آپ کو قدرتی اشیاء کے ایک دوسرے گروہ کو استعمال کرنے کے لئے تجویز کرتے ہیں جو ان کا اہم کردار ظاہر کرتا ہےآرٹیریوسلیروسس کی تمام مؤثر وجوہات پر قابو پانے کے لئے رگوں کی مدد کرتا ہے۔

ہمارا علاج صرف یہاں تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ ہم بہترین نتائج حاصل کرنے کے لئے ایتھروما اور ایتھروسلیروسس کے ہر مؤثر وجوہات پرتمام ممکنہ میکانزم کو دیکھنے کا مشورہ دیتے ہیں
اسی لئے ہم آپ کو زیتون کے پتوں  کااستعمال تجویز کرتے ہیں کیوں کہ یہ زیتون کے درخت کا ایک حصہ ہے، جس کا ذکر قرآن پاک میں بار بار آیا  ہے  " ایک مبارک درخت کا تیل جلایا جاتا ہے (یعنی) زیتون کہ نہ مشرق کی طرف ہے نہ مغرب کی طرف۔ (ایسا معلوم ہوتا ہے کہ) اس کا تیل خواہ آگ اسے نہ بھی چھوئے جلنے کو تیار ہے"
مطالعات واضح کرتے ہیں کہ زیتون کے پتے  تین اہم عوامل جو ایتھروسيکلیروسس سے بچانے میں انفرادی اور جنگی کردار رکھتا ہے۔ پہلی مطالعات کے مطابق رگوں میں فشار خون کو کم کرنے میں حصہ لیتا ہے(Khayyal et.al., 2002) 
یہ نمایاں طور پر آرٹیریوسيکلیروسس اور بلند فشار خون کے میکانزم  کو روک کر ارتھروما سے بچانے میں مدد دیتے ہیں  جو رگ کی اندرنی سطح کو پریشان کرتے ہیں۔(Wainstein et.al., 2012) 
اسی لئے ہم زیتون کے پتے ہر مریض کے لئے تجویز کرتے ہیں جن کی فیملی میں بلند فشار خون رہتا ہویا ان کے لئے جو پہلے ہی رگ کے ابتدائی بلند فشار خون کی شکایت کرتے  ہیں (Wang et.al., 2008) .
ابتدائی اور ثانوی رگ کا بلند فشار خون  اور اس کے علاج کے درمیان کا فرق دیکھیں
جیسا کہ زیتون کے پتے بھی ذیابیطس پر قابو پانے میں ایک زبردست کردار ادا کرتے ہیں جو ایتھروسلیروسس اور ایتھروما کےلیے سب سے اہم وجوہات میں سے ایک سمجھی جاتی ہے۔
ہم عام طور پر اسے ذیابیطس کے مریضوں کے لئے تجویز کرتے ہیں چاہے وہ رگ کا سلیروسس سے ہو یا نہ ہو
کوئی ہوسکتا ہے کہ کہے اسے ایتھروسلیروسس ہے لیکن ذیابیطس نہیں ہے اور وہ ڈرتے ہیں کہ جب وہ زیتون کا پتے لیں تو ہوسکتا ہے   ان کے خون میں شکر کی سطح کم ہوجائے گی۔
ہم انہیں بتاتے ہیں کہ پریشان نہ ہوں ایسا نہیں ہوگا کیوں کہ زیتون کے پتے تیر بہدف علاج ہے  اور اللہ کی تحلیق کے مطابق کافی عقلمند ہیں  ۔ یہ  انسانی تخلیق کی طرح نہیں ہے جس کے جامع ہونے میں پھر بھی کمی ہے ہم آپ کو مشورہ دیتے ہیں اس فلم کو دیکھیں جو تفصیل سے وضاحت کرتی ہے کیسے اللہ نے  منتخب اور مخصوص جامع تخلیق کی ہے اگر انسان کی تخلیق سے موازنہ کریں۔
آخر میں ، ہم کہتے ہیں کہ زیتون کے پتے رگوں کے لئے منتخب اورخاص ہیں اور نہ صرف یہ ذیابیطس کو ختم کرتےہیں بلکہ رگ کے فشار خون کو بہتر کرتےہیں۔
اور یہ مطالعات تصدیق کرتے ہیں کہ زیتون کے پتے براہ راست ایتھروسلیروسس کے علاج میں بہترین کردار ادا کرتے ہیں۔
تمام میکانزم کے حدف کی تکمیل کے لئے جو حملوں کی وجہ ہوتے ہیں اور دل کے پٹھے پر حملے کے خطرات کے لئے، ہم بوبلی کے استعمال کی تجویز دیتے ہیں، جو 
ایک قدرتی گوند ہے جو جانوروں کے تھنوں سے پیدائش کے بعد پہلے 3 دن باہر آتی ہے۔
سورۃ المومنون میں قرآن پاک میں بالواسطہ ذکر کیا گیا تھا اور بتایا گیا تھا یہ اسے کے لاتعداد فوائد ہیں "اور تمہارے لئے چارپایوں میں بھی عبرت (اور نشانی) ہے کہ ان کے پیٹوں میں ہے اس سے ہم تمہیں (دودھ) پلاتے ہیں اور تمہارے لئے ان میں اور بھی بہت سے فائدے ہیں اور بعض کو تم کھاتے بھی ہو" (21) المومنون
یہ دیکھا جاچکا ہے کہ بوبلی کی امتیازی خصوصیات میں کسی ٹشو کو نقصان پہنچانے سے بچانا ہے جو رگ غیرمصالحانہ ہے جب یہ جمتا ہے۔ خون کے جمنے پر، اس کی حرکت ان ٹشوز کے لئے خون کے بہاؤ میں کمی کا باعث بنتی ہے جس سے نمی بڑھتی یا شدید ہوجاتی ہے۔(Choi et.al., 2008) 
اور یہ دراصل ٹشو کےلئے بڑے نقصان کا باعث بنتے ہیں۔
مطالعات ثابت کرتے ہیں کہ ٹشو کو نقصان پہنچنا بہت سے اعضا میں نمی  کی کمی کی وجہ سے ہوتا ہے ان میں کچھ نمی کی کمی کی وجہ سے یا دماغ کے فالج کی صورت میں ، ہم بوبلی کے استعمال کی تجویز دیتے ہیں ییہاں تک کہ نمی کی کمی کی وجہ سے دل کے دورے میں بھی۔
بوبلی  میں یہ  صلاحیت ہے کہ یہ متاثرہ ٹشو کو دل اور دماغ پر حملوں کے بعد دوبارہ بنا لیتا ہے۔ اسے نہ صرف بطور غذائی جز کے نہیں جانا جاتا بلکہ
یہ نشونما کے عوامل سے بھرپور ہوتا ہے یہ عوامل ٹشو کی دوبارہ تعمیر میں حصہ لیتے ہیں۔
بوبلی اتھروسلیروسس کے مریضوں کو تجویز کی جاتی ہے اس کی نہ صرف نقصان دہ ٹشو کو بچانے کی صلاحیت کی وجہ سے بلکہ اس کی صلاحیت ہوتی ہے کہ وہ مختلف میکانزم سے ٹکراتی ہے جو ایتھروسلیرسس اور ایتھروما  کا باعث ہوتے ہیں۔
بوبلی کولیسٹرول کی سطحوں کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے اور ٹرائی گلائی سیرائیڈ کی سطحوں میں کمی لا تی ہے اور اپنی ذیابیطس میں بہتری کی صلاحیت کے ذریعے  ایتھروسلیرسس سے بچانے کا اضافی کردار ادا کرتی ہے  اور ذیابیطس کے مریضوں میں کیٹون باڈیز کو بہتر کرتی ہے اور ایتھروسلیرسس کے تمام خظرناک عوامل کوبہتر کرتی ہے۔(Burrin et.al., 1997) .
ہم ایتھروسيکلیروسس میکانزم سے سب سے زیادہ ٹکرانے کی اس کی صلاحیت کی وجہ سے بوبلی کو  تجویز کرتے ہیں ، جیسا مطالعہ تجویز کرتا ہے کہ  یہ رگ میں فشار خون کی کمی میں اہم کردار اداکرتی ہے(Kim et.al., 2009) .
لیکٹو فیرن سے بھرپور  ہونے کی وجہ سے یہ مختلف میکانزم اور پہنچ اور نہ صرف ایک  طریقے یہ رگ میں فشار خون کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ (Groziak et.al., 2000) .
ہم انگور کے بیج  میں ان کی کئی صلاحیتوں سے استعمال کی تجویز دیتے ہیں کیوں کہ ہمارا یقین ہے کہ اللہ تعالٰی نے قرآن پاک میں اسے ذکر کیا ہے ، جب وہ فرماتا ہے"کھجور اور انگور کے میووں سے بھی " (67) النحل
یہ آیت انگوروں اور کھجوروں کے درختوں کے پھلوں کی عبارت کے فائدوں کا مشورہ دیتی ہے۔ "اور کھجور اور انگور کے میووں سے بھی"، کھجور کے پھل اور انگور کے پھل میں کیا ہے؟
ہمارے سمجھنے کے لئے، یہ ہوسکتا ہے انگور کے بیج ہوں اور کھجور کی گھٹلیاں۔ بہرحال، مطالعات ظاہر کرتے ہیں کہ انگور کے بیجوں میں ان مریضوں کے لئے زبردست فائدے ہوتے ہیں  جو دل و دماغ کی رگوں کی سختی میں مبتلا ہوں (Quiñones et.al., 2013)
رگ میں فشار خون ، تھیروسلیروسس اور ایتھروما میں کمی کے ان پر اثرات کی وجہ سے۔ یہ اہم میکانزم ہیں جو ایٹیریوسیلورسس کی وجہ ہے۔ اس کا اثر زیتون کے تیل ، قدرتی سیب کے سرکے، آبی اور چکنے جوہر ساج برش اور آبی اور چکنے جوہرارغونی میں بھی پایاجاتا ہےاس میں مزید زیتون کے پتے اور اومیگا 3 شامل ہیں(Pons et.al., 2016) .
انگوروں کے بیج کے استعمال کا اثر صرف یہاں تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ بہت سے مطالعات مشورہ دیتے ہیں کہ انگوروں کے بیج رگوں کو کھولنے (واسوریلیکس سیشن) میں حصہ لیتے ہیں، ان کی کمی رگ میں فشار خون اور اعضاء کی نمی کی بہتری کے لئے ہے یہاں تک کہ اگر  تنگ رگوں کا رویہ  غیر مصالحانہ بھی ہوں۔ یہاں ہمیں نہیں بھولنا چاہئیے کہ انگور کے بیج مؤثر طریقے سے خون کی نالیوں کی دیوار کو برقرار رکھتے ہیں  تاکہ وہ بطور  (ویسوپروٹیکٹو)اضافی دباؤکے کم کرنے میں پچھلے میکانزم کے لئے کام کرتا رہے۔
اسی طرح رگوں اور ایتھروما کی سختی سے بچاتے ہیں - (اینٹی ایتھرسيکلیروٹک)۔ انگور کے بیج بحیثیت اللہ کی تخلیق کے جن میں ہمیشہ کئی صلاحیتیں اور کئی کام کرنے کی خصوصیات ہوتی ہیں۔
جب سے مطالعات حوالے دے رہے ہیں کہ ان میں خون میں کولیسٹرول کی سطحوں کو کم کرنے کی صلاحیت ہے اور یہ بطور ہائی پولی پائیڈیمک اور ہائیپر کولیسٹرولیمیا کے کام کرتے ہیں۔(Bijak et.al., 2011) 
حقیقت میں یہ اس انسدادی اثر کے برخلاف ایتھروما اور ایتھروسلیروسس انہیں دوسری خصوصیات دی جاتی ہیں جیسے اینٹی تھرومبوٹک اور انیٹی کوگولینٹ ۔انگور کے بیج آخر ی ہیں مگر دل کے تحفظ میں بہت اہم کردار ادا کرنے میں کم تر نہیں ہیں۔
اگر ہم لہسن پرتفصیل سے بحث کریں تو ہم دل اور خون کے گردش کے نظام پر اس کا منفرد اثر  پاسکتے ہیں۔(Bijak et.al., 2011).
شاید یہ حیران کن بات نہ ہوگی کہ اگر ہم یہ جانیں کہ قرآن پاک لہسن کے بارے میں کیا ذکر کرتا ہے، "ترکاری اور ککڑی اورلہسن اور گیہوں اور مسور اور پیاز (وغیرہ)" سورۃ البقرۃ

دو اہم مضامین کی دیکھتے ہیں: کیا یہ لہسن اور پیاز ناپسندیدہ ہیں؟ کیا ہم  انہیں علاج کے لئے استعمال کرسکتے ہیں؟
جیسا کہ ہم نے لہسن کے بارے میں بتایا  بطور اعلٰیٰ قرآنی غذا اور اللہ اسی آیت میں فرماتا ہے کہ کیا تم  اچھی چیز کے بدلے گھٹیا  چیز لیتے ہیں یہ گھٹیا  ہے جیسا کہ قرآن نے اسے بتایا، آپ اسے کیسے بہتر سمجھ سکتے ہیں؟
مطالعے ظاہر کرتے ہیں کہ یہ تمام ممکنہ میکانزم پر کام کرتی ہے جو ایتھروسلیروسس کا باعث ہوتے ہیں۔
جیسا کہ یہ رگوں کے بلند فشار خون   کو کم کرنے میں مدد کرتا ہے جو کہ ایتھروسلیروسس کا اہم جز ہے جیسا کہ یہ اے سی ای یعنی انگیوٹینسن کنورٹنگ انزائم کو روکنے کے لئے  اہم کردار ادا کرتا ہے۔(Sharifi et.al., 2003) .
لہسن خون میں شکر کی  سطح کو کم کرنے میں  اہم کردار ادا کرتا ہے  جو کہ ایتھروسلیروسس کے لئے دوسرا اہم خطرہ ہے
یہ خون میں انسولین کے اثر کو بڑھاتا ہے اور اس کے میٹابولزم سےبچاتا ہے۔ پس یہ ذیابیطس کے مریضوں میں  خون کے شکر کی سطح کم کرنے کے لئے انسولین کی کارکردگی کو بڑھاتے ہیں۔(Adoga, 1987) 
لہسن کی کارکردگی ٹرائی گلائی سیرائیڈز اور کولیسٹرول کی سطحوں کی کمی سے ظاہر ہوتی ہے۔
جب سے ایتھروما اور اتھروسلیروسس کے لئے  آکسیڈائزڈ کولیسٹرول کو ایک اہم جز سمجھا جارہا ہے اور حالیہ مطالعے کے مطابق یہ بہت سے میکانزم پر کام کرتا ہے۔
اسی لیے،  لہسن خون کی سطحوں  میں کولیسٹرول کی کمی اور اس کی آکسیڈیشن  سے بچا نے کی اپنی صلاحیت سےایتھروما اور اتھروسلیروسس کے ہونے کو کم کرنے میں حصہ لیتا ہے  
لہسن ایتھروما اور ایتھروسلیروسس پر منفی اثر ڈالتا ہے اس کے ساتھ ساتھ اس کی منفرد خصوصیت خون میں کولیسٹرول، ذیابیطس اور فشار خون کو کم کرتا ہے۔
سلفر سے بھرپور مرکبات اور جو لہسن کی بو رکھتے ہیں اس کے ساتھ ساتھ  ایلیسن، ایک مرکب جو لہسن میں پایاجاتا ہے دونوں باہمی تعاون کے ساتھ ایتھروما کے ہونے سے روکتے ہیں
جب کہ پہلا مرکب تیل میں حل ہوجاتا ہے جو ایتھروما کو جمع کرنے سے روکتا ہے ،  دوسرا مرکب (ایلیسن)ایل ڈی ایل کولیسٹرول کی آکیسیڈیشن کوروکتا ہے اور یہ میکروفیج سے ان کے فیگوسائیٹسس کو روکتا ہے، جوکولیسٹرول کو رگوں کی دیوار کے ساتھ جمع کرنے کا باعث ایتھروما  بنتا  ہے۔
لہسن خون کی نالیوں پر حفاظتی اثر بھی رکھتا ہے، یہ دیکھا گیا تھا کہ لہسن میں سلفر مرکبات  سرخ خون کے خلیوں کو استعمال کرتے ہیں جس کے ذریعے ہائیڈروجن سلفائیڈ بناتے ہیں۔ بعد کا مرکب ایک ویسکوڈیلیٹر (اس کا مطلب ہے یہ اعصابی رگوں کو پھیلاتا ہے ) جو آرتھریوسلیروسس اور ایتھروما کی وجہ سے تنگ ہوتی ہیں(Singh et.al., 2006) 
اور یہ نمایاں طور پر رگوں کے فشار خون کو کم کرتا ہے اور  دل کی کوروناری رگوں میں  کالسیفیک کے ہونے سے بھی بچاتا ہے 
شاید لہسن کابہت اہم کام جو خون کے گردشی نظام میں اس کی صلاحیت  کو ظاہر کرتا ہے  اور خون کے پلیٹیلیٹس کے چپکنے سے روکنے کے چار مختلف میکانزم سے ۔  جیسا کہ ہم نے پہلے ذکر کیا کہ پلیٹیلیٹس کا چپکنا  خون کے بہاؤ میں خون کے جمنے کے لئے ایک اہم جز ہے جسے بطور خون کے جمنے یا تھرومبس سے جانا جاتا ہےجو ایک زندگی کو دھمکانے کا مسئلہ ہے۔
کیا حقیقت میں یہ حیرت انگیز نہیں ہے کہ جب ہم دیکھتےکہ ان قدرتی مرکبات میں سے ہر ایک کے کئی فوائد ہیں اور جو مختلف میکانزم میں کام کرتے ہیں بغیر کسی مضر اثرات اور بغیر اس دوا ئی کے باہمی عمل کے۔ یہ واقعی ہمیں یاد دلاتا  اللہ تعالی کی عظمت اس کی تخلیق اور اس کےذکر میں
"تو جو (اتنی مخلوقات) پیدا کرے۔ کیا وہ ویسا ہے جو کچھ بھی پیدا نہ کرسکے"(17) سورۃ النحل، اور  "یہ تو خدا کی پیدائش ہے تو مجھے دکھاؤ کہ خدا کے سوا جو لوگ ہیں اُنہوں نے کیا پیدا کیا ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ یہ ظالم صریح گمراہی میں ہیں (31)  سورۃ القمان اور یہ بھی کہ "(یہ) خدا کی کاریگری ہے جس نے ہر چیز کو مضبوط بنایا۔"(88) سورۃ النمل
حیرت انگیز چیز یہاں یہ ہے کہ یہ تمام قدرتی اشیاء کا ذکر قرآن پاک میں کیا گیا تھا۔
انگوروں کے بیجوں کا ذکر ایک آیت میں کیا گیا تھا کہ اللہ فرماتا ہے ، "اور کھجور اور انگور کے میووں سے بھی (تم پینے کی چیزیں تیار کرتے ہو کہ ان سے شراب بناتے ہو) اور عمدہ رزق (کھاتے ہو)"
اس کے ساتھ ساتھ اسی آیت میں سرکے کا ذکر ، اسی طرح شکر کا ذکر کیا گیا تھا 
اور یہ اومیگا 3 میں بھرپور ہوتا ہے
بوبلی بھی جس کا ذکر بالواسطہ سورۃ المومنون کی آیت نمبر 18 میں ذکر کیا گیا ہے۔
لہسن کا ذکر سورۃ البقرۃ میں کیا گیا تھا"اے موسیٰ! ہم سے ایک (ہی) کھانے پر صبر نہیں ہو سکتا تو اپنے پروردگار سے دعا کیجئے کہ ترکاری اور ککڑی اور لہسن اورمسور اور پیاز (وغیرہ) جو نباتات زمین سے اُگتی ہیں،"
مزید یہ کہ یہ تمام جڑی بوٹیو ں کا ذکر اللہ تعالیٰ نے  خوشبودار پودے  تلسی سے کیا ہے۔
پہلے سورۃ الرحمٰن  اور پھر سورۃ الواقعہ میں
اور زبان کے مطابق تمام جڑی بوٹیاں کو ہم تلسی کہہ سکتے ہیں جن کی بو اچھی ہو
جب کہ زیتون کے پتے، اس کا ذکر پانچ بار  بطور زیتون کے درخت کے ایک حصے سے کیا گیا ہے۔"اس میں ایک مبارک درخت کا تیل جلایا جاتا ہے (یعنی) زیتون"
کوئی حیرت کی بات نہیں ہمارے دیکھنے کے بعد کہ ایتھروسلیروسس سب سے خطرناک بیماری ہے جس سے انسانی زندگی کو خطرے ہے، اللہ نے اس کے لئے علاج کھانے اور پینے میں رکھا ہے جیسا کہ قرآن میں  ذکر کیا ہے کہ بچانے اور علاج میں حصہ لیتے ہیں۔ کوئی تعجب نہیں کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ، "اور ہم قرآن (کے ذریعے) سے وہ چیز نازل کرتے ہیں جو مومنوں کے لئے شفا اور رحمت ہے"
اللہ کی مخلوق سے مزید حیرت انگیز میکانزم دریافت  کرنے کے لئے، ہم ان فلموں کو دیکھنے کی تجویز دیتے ہیں۔

References:

Adoga, G. I. 1987. The mechanism of the hypolipidemic effect of garlic oil extract in rats fed on high sucrose and alcohol diets. Biochemical and Biophysical Research Communications, 142, 1046-1052.

Badimon, J., Fuster, V., Chesebro, J. & Badimon, L. 1993. Coronary atherosclerosis. A multifactorial disease. Circulation, 87, II3-16.

Bijak, M., Bobrowski, M., Borowiecka, M., Podsędek, A., Golański, J. & Nowak, P. 2011. Anticoagulant effect of polyphenols-rich extracts from black chokeberry and grape seeds. Fitoterapia, 82, 811-817.

Burrin, D. G., Davis, T. A., Ebner, S., Schoknecht, P. A., Fiorotto, M. L. & Reeds, P. J. 1997. Colostrum enhances the nutritional stimulation of vital organ protein synthesis in neonatal pigs. The Journal of Nutrition, 127, 1284-1289.

Chambless, L. E., Folsom, A. R., Davis, V., Sharrett, R., Heiss, G., Sorlie, P., Szklo, M., Howard, G. & Evans, G. W. 2002. Risk factors for progression of common carotid atherosclerosis: The atherosclerosis risk in communities study, 1987–1998. American Journal of Epidemiology, 155, 38-47.

Choi, H. & Ko, Y. 2008. P032 protective effects of bovine colostrum on brain ischemia/reperfusion injury in rat. Clinical Nutrition Supplements, 3, 42.

Cicero, A. F. G., Ertek, S. & Borghi, C. 2009. Omega-3 polyunsaturated fatty acids: Their potential role in blood pressure prevention and management. Current Vascular Pharmacology, 7, 330-337.

Fuster, V., Badimon, J. & Badimon, L. 1992. Clinical-pathological correlations of coronary disease progression and regression. Circulation, 86, III1-11.

Groziak, S. M. & Miller, G. D. 2000. Natural bioactive substances in milk and colostrum: Effects on the arterial blood pressure system. British Journal of Nutrition, 84, 119-125.

Harris, W. S., Miller, M., Tighe, A. P., Davidson, M. H. & Schaefer, E. J. 2008. Omega-3 fatty acids and coronary heart disease risk: Clinical and mechanistic perspectives. Atherosclerosis, 197, 12-24.

Hirai, T., Sasayama, S., Kawasaki, T. & Yagi, S. 1989. Stiffness of systemic arteries in patients with myocardial infarction. A noninvasive method to predict severity of coronary atherosclerosis. Circulation, 80, 78-86.

Howard, G., Wagenknecht, L. E., Burke, G. L. & Et Al. 1998. Cigarette smoking and progression of atherosclerosis: The atherosclerosis risk in communities (aric) study. JAMA, 279, 119-124.

Irish, A., Dogra, G., Mori, T., Beller, E., Heritier, S., Hawley, C., Kerr, P., Robertson, A., Rosman, J., Paul-Brent, P.-A., Starfield, M., Polkinghorne, K. & Cass, A. 2009. Preventing avf thrombosis: The rationale and design of the omega-3 fatty acids (fish oils) and aspirin in vascular access outcomes in renal disease (favoured) study. BMC Nephrology, 10, 1.

Kass, D. A. 2005. Ventricular arterial stiffening. Integrating the Pathophysiology, 46, 185-193.

Khayyal, M. T., El-Ghazaly, M. A., Abdallah, D. M., Nassar, N. N., Okpanyi, S. N. & Kreuter, M.-H. 2002. Blood pressure lowering effect of an olive leaf extract {olea europaed) in l-name induced hypertension in rats. Arzneimittelforschung, 52, 797-802.

Kim, J. H., Jung, W. S., Choi, N.-J., Kim, D.-O., Shin, D.-H. & Kim, Y. J. 2009. Health-promoting effects of bovine colostrum in type 2 diabetic patients can reduce blood glucose, cholesterol, triglyceride and ketones. The Journal of nutritional biochemistry, 20, 298-303.

Ku, D. N. 1997. Blood flow in arteries. Annual Review of Fluid Mechanics, 29, 399-434.

Laurent, S., Cockcroft, J., Van Bortel, L., Boutouyrie, P., Giannattasio, C., Hayoz, D., Pannier, B., Vlachopoulos, C., Wilkinson, I. & Struijker-Boudier, H. 2006. Expert consensus document on arterial stiffness: Methodological issues and clinical applications. European Heart Journal, 27, 2588-2605.

Lavie, C. J., Milani, R. V., Mehra, M. R. & Ventura, H. O. 2009. Omega-3 polyunsaturated fatty acids and cardiovascular diseases. Journal of the American College of Cardiology, 54, 585-594.

Lungershausen, Y. K., Abbey, M., Nestel, P. J. & Howe, P. R. C. 1994. Reduction of blood pressure and plasma triglycerides by omega-3 fatty acids in treated hypertensives. Journal of Hypertension, 12, 1041-1046.

Maseri, A., Chierchia, S., Davies, G. J. & Fox, K. M. 1983. Variable susceptibility to dynamic coronary obstruction: An elusive link between coronary atherosclerosis and angina pectoris. The American Journal of Cardiology, 52, 46-51.

Neely, J. R. & Morgan, H. E. 1974. Relationship between carbohydrate and lipid metabolism and the energy balance of heart muscle. Annual review of physiology, 36, 413-459.

Pons, Z., Margalef, M., Bravo, F. I., Arola-Arnal, A. & Muguerza, B. 2016. Acute administration of single oral dose of grape seed polyphenols restores blood pressure in a rat model of metabolic syndrome: Role of nitric oxide and prostacyclin. European journal of nutrition, 55, 749-758.

Quesada, H., Del Bas, J., Pajuelo, D., Diaz, S., Fernandez-Larrea, J., Pinent, M., Arola, L., Salvadó, M. & Bladé, C. 2009. Grape seed proanthocyanidins correct dyslipidemia associated with a high-fat diet in rats and repress genes controlling lipogenesis and vldl assembling in liver. International journal of obesity, 33, 1007-1012.

Quiñones, M., Guerrero, L., Suarez, M., Pons, Z., Aleixandre, A., Arola, L. & Muguerza, B. 2013. Low-molecular procyanidin rich grape seed extract exerts antihypertensive effect in males spontaneously hypertensive rats. Food Research International, 51, 587-595.

Ross , R. 1999. Atherosclerosis — an inflammatory disease. New England Journal of Medicine, 340, 115-126.

Salonen, R., Seppänen, K., Rauramaa, R. & Salonen, J. T. 1988. Prevalence of carotid atherosclerosis and serum cholesterol levels in eastern finland. Arteriosclerosis, Thrombosis, and Vascular Biology, 8, 788-792.

Sharifi, A. M., Darabi, R. & Akbarloo, N. 2003. Investigation of antihypertensive mechanism of garlic in 2k1c hypertensive rat. Journal of Ethnopharmacology, 86, 219-224.

Singh, D. K. & Porter, T. D. 2006. Inhibition of sterol 4α-methyl oxidase is the principal mechanism by which garlic decreases cholesterol synthesis. The Journal of Nutrition, 136, 759S-764S.

Sylvén, C. 1993. Mechanisms of pain in angina pectoris—a critical review of the adenosine hypothesis. Cardiovascular Drugs and Therapy, 7, 745-759.

Terra, X., FernáNdez-Larrea, J., Pujadas, G., ArdèVol, A., Bladé, C., Salvadó, J., Arola, L. & Blay, M. 2009. Inhibitory effects of grape seed procyanidins on foam cell formation in vitro. Journal of agricultural and food chemistry, 57, 2588-2594.

Wainstein, J., Ganz, T., Boaz, M., Bar Dayan, Y., Dolev, E., Kerem, Z. & Madar, Z. 2012. Olive leaf extract as a hypoglycemic agent in both human diabetic subjects and in rats. Journal of medicinal food, 15, 605-610.

Wang, L., Geng, C., Jiang, L., Gong, D., Liu, D., Yoshimura, H. & Zhong, L. 2008. The anti-atherosclerotic effect of olive leaf extract is related to suppressed inflammatory response in rabbits with experimental atherosclerosis. European Journal of Nutrition, 47, 235-243.

Wilke, A., Noll, B. & Maisch, B. 1999. [angina pectoris in extracoronary diseases]. Herz, 24, 132-139.



videos balancecure

اسے دیں



ہمارے خبری خطوط کی تائید کریں


تبصرے

کوئی تبصرے نہیں

تبصرہ شامل کریں

Made with by Tashfier

loading gif
feedback