دنیا کی سب سے بڑی سائنسی دستاویزی صحت کی ویب سائٹ آپ کے خاندان کی خوشی اور صحت کے لئے، سائنس اور ایمان کے ساتھ ہم توازن کرتے ہیں

85501814

خالی پیٹ پانی پینا

خالی پیٹ پانی پینا



صوفی: ڈاکٹر جمیل آپ نے پہلے ذکر کیا تھا کہ پیناہمیشہ ہمیشہ کھانے کے بعد آنا چاہئیے، اللہ تعالیٰ کے الفاظوں میں قرآن پاک میں فرماتا ہے  "کھانا اور پینا"۔

لیکن بہت سے لوگ اور چینی ادویات تجویز کرتے ہیں کہ خالی پیٹ  پانی پینا چاہئیے۔ میں نے پڑھا ہے جس کا نتیجا یہ ہے کہ صبح میں خالی پیٹ  پانی پینے کے بہت سے فائدے ہیں۔ آپ اس معلومات کے بارے میں کیا سمجھتے ہیں؟ کیا یہ  آیات پاک سے مطابقت رکھتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرما تا ہے آیت میں "کھاؤ اور پیو"؟

 اس اہم سوال پر آپ کا شکریہ،  نیک صوفی۔ میں بطور جواب کے کہہ سکتا ہوں کہ : قرآن پاک  دوسری تمام  آسمانی اور ارضی کتابوں اپنی بے مثالی، جامع اور درستگی  کی بناء پر غالب  اور ان سے اونچی ہے ۔اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک کو ایک جامع کتاب میں تشکیل دیا ہے۔اسی طرح ہم آیت میں اس کے معنی پا سکتے ہیں (اور (اے پیغمبر!) ہم نے تم پر سچی کتاب نازل کی ہے جو اپنے سے پہلی کتابوں کی تصدیق کرتی ہے اور ان (سب) پر شامل ہے) 5:48۔اور آیات میں کوئی بھی چیز ہم نے اس کتاب سے نہیں ہٹائی ہے 6:38۔بحوالہ سائنس ، یہ ابھی تک سائنسی طور پر کسی مطالعہ  سےثابت نہیں ہوسکاہے جوکسی سائنسی جنرل میں شائع ہو ا مختضر کمیٹی کے ساتھ کہ خالی پیٹ پانی پینے کے صحت کے فائدے ہیں۔کوئی مطالعہ جو ابھی تک موجود نہیں ہے، میں نے بہت سی اقسام کی تحقیق کی ہیں یہ معلوم کے لئے کہ کم از کم ایک مطالعہ اس موضوع کے بارے میں بات کرے میں نے سائنسی تحقیقی حوالوں سے پانے کی کوشش کی مگر اس کا کوئی سراغ نہ مل سکا،البتہ میں نے اپنے بہت سےمریضوں میں پایا کہ جنہوں نے اس طریقے کو اپنانے کی کوشش کی انہوں نے مجھے بتایا کہ انہوں نے سو کر اٹھنے کے بعد خالی پیٹ پانی پی کرسرگرمی، توانائی، روح اور صحت میں بہتری پائی ہے۔ حالانکہ اصول ہے کہ ہمیشہ قرآن خوراک کی ترتیب میں مہارت رکھتا ہے اور ہمیشہ کہتا ہے "کھاؤ اور پیو"، لیکن میں خالی پیٹ پانی پینے پر مکمل اتفاق رکھتا ہوں بطور چینی ادویات کی تجاویز سے بھی۔(Singh et.al., 2015)

میں ہمیشہ کہتا ہوں کہ کسی چیز کے تصدیق کے لئے یہ ممکن نہیں ہے  کہ ہمیں اس کے بارے میں بالکل معلوم ہی نہ ہو بلکہ جہاں تک اللہ تعالٰی فرماتا ہے، "ہم نے کتاب میں سے کچھ خارج نہیں کیا ہے"۔ اگر ہم قرآن کی تحقیق سے بحثیت عقلمند  ورمحتاط  جو نصیحت حاصل کرے گا ، ہر چیز کی تفصیلات اور جوابات حاصل کریں گے۔

اور اس کے ساتھ ساتھ آیت اور جو نصیحت حاصل کرے وہ ہی عقلمند ہےجیسا کہ ہم پہلے چینی نظام میں بہت سی صحت کی دلچسپ  غلطیوں اور اچھائیوں کے بارے میں تفصیل بتاچکے ہیں، ہم چینی نظام میں اس اصول کے درست ہونےکی مثال کے لئے آج یہاں ہیں۔

اللہ تعالیٰ ہمیں  دوسرے لوگوں اور قبیلوں کی ثقافت کو سیکھنے کا حکم دیتا ہے  تا کہ ہم جانیں کہ ان کے پاس کیا ہے لیکن اللہ تعالٰی  کی پرہیزگاری کے لئے قرآن پاک کئی جگہوں پر تصدیق کرتا ہے کہ نیند ایک موت ہے لیکن موت سے کم ہے اور شاید آیات تیاری اور صاف ہے (De Purucker et.al., 1974) 

اور یہ ہم آیت میں دیکھ سکتے ہیں  اور جیسے ہم سونے کےلئے بستر پرجاتے ہیں،  آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سونے کی نماز یاد دلانے کے لئے حکم دیا ہے اور سونے کی نمازیں کیا ہیں جس میں روح کی موت کے واقع ہونے کا داخل ہے تو یہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم  کی نماز تھی  فوری جب ہم نیند سے جاگیں۔ اس تمام میں اللہ تعالیٰ  ہمارے جاگنے پر دوبارہ روح کو زندہ کرتا ہے، اللہ تعالیٰ کی مرضی سے؛ اللہ تعالیٰ کے انسانی جسم میں دوبارہ روح کو زندہ کرنے کو  حضرت محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم   نے حیات نو کہاہے ۔ دوسری طرف، ہم دیکھ سکتے ہیں اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں کئی جگہوں پر پانی کو زندگی سے جوڑا ہے۔کیا رب العزت نے ہمیں نہیں بتایا اس کے ساتھ ساتھ آیت کے بارے میں خوب غور و فکر کرو جو زمین کی بحالی میں پانی کے کردار کے بارے میں بتاتی ہے، جسے ہم اللہ سبحان و تعالیٰ کے اپنے الفاظوں میں دیکھ سکتے ہیں۔ کیوں کہ اللہ تعالٰی نے ہمیں زمین سے پیدا کیا اور کیوں کے زمینی عناصر اور اس کے مرکبات ہمارے جسموں میں موجود ہیں اور ہم تک پہنچتے ہیں جن  کی اصل زمین سے ہے چاہے وہ پھل ہوں یا غذا،(Zeng, 2010) جیسا کہ ہمارے جسموں میں بائیو کیمیکل ردعملوں کو قائم رکھنے میں پانی بنیادی کردار ادا کرتا ہے کئی سائنسی مطالعات تجویز کرتے ہیں کہ کیوں ڈائریا اور مستقل الٹیا ہوتی ہیں جس سے جسم صرف ٪20 جسمانی پانی کھوتا ہے جو انسان کے لئے نقصان دہ ہے اور ان کی جان بھی لے سکتا ہے(Franks et.al., 2000)

اسی لئے ہم کہہ سکتے ہیں کہ جاگنے کے موقع پر، ہم بحالی کے دور میں ہوتے ہیں، روح کے دوبارہ زندہ ہونے اور زندگی کے واپس لوٹنے کے دور میں پانی کی خصوصیات کے مطابق جیسا کہ  اللہ تعالیٰ نے ہر زندہ چیز اس سے پیدا کی ہے۔پس پانی اور صرف پانی کو بحیثیت پینے کے لئے سمجھا جاتا ہے بغیر کسی اور پینے کی چیز کے،  جسم میں کسی بھی وقت داخل کرنے کے لئے بہت مناسب ہے جو جاگنے کا وقت ہے۔پس: ہم پاسکتے ہیں کہ قرآن پاک میں  جو دوسری ادویات  کی درستگی کی یا ان کی غلطیوں کی گواہی دیتا ہے۔ اس عادت کا قدیم مشرقی ادیات میں ذکر ہے بطور پانی کے پینے کے لئے  جب سو کر اٹھیں اور قرآن پاک اس کی بالواسطہ گواہی دیتا  ہےاور صرف اللہ جانتا ہے۔
اور میں کہتا ہوں کہ سائنسی مطالعے کے لئے ضروری ہے کہ سائنسی طریقہ کار کے استعمال شروع کریں جب تک کہ سو کر اٹھنے پر براہ راست خالی پیٹ پانی پینے کے حقیقی فائدوں کی اقسام کی تصدیق نہ ہوجائے  اور اگر اس میں بیماریاں  ہیں جن پر ان اصول کو لگانے سے مدد مل سکتی ہے یا نہیں

References:

De Purucker, G. & Knoche, G. F. 1974. Fountain-source of occultism, Theosophical University PR.

Franks, F. & Chemistry, R. S. O. 2000. Water: A matrix of life, Royal Society of Chemistry.

Singh, D. J., Davidson, J. & Books, M. C. 2015. Curing yourself with water - knowing more about hydrotherapy.

Zeng, H. 2010. Nutrition optimization for health and longevity, AuthorHouse.



videos balancecure

اسے دیں



ہمارے خبری خطوط کی تائید کریں


تبصرے

کوئی تبصرے نہیں

تبصرہ شامل کریں

Made with by Tashfier

loading gif
feedback