دنیا کی سب سے بڑی سائنسی دستاویزی صحت کی ویب سائٹ آپ کے خاندان کی خوشی اور صحت کے لئے، سائنس اور ایمان کے ساتھ ہم توازن کرتے ہیں

87525225

دارچینی بطور قدرتی اینٹی بائیوٹک

دارچینی  بطور قدرتی اینٹی بائیوٹک



ہم میں سے ہر ایک پہلے ہی زندگی کے اس حصے میں ہیں جہاں انفیکشن ہوتے ہیں  جسم کے کچھ مقامی حصوں میں درد، بخار، سوجن میں مبتلا ہوتے ہیں۔

لیکن حقیقت میں، قدرتی اور صحت مند چیز کیا ہوتی ہے۔ یہ علامات انفیکشن اور سوزش سے جسم کے مدافعتی ردعمل کی وجہ سے  ظاہر ہوتے ہیں جس میں جسم زہریلے عوامل کو صاف کرنے میں غالب ہوتا ہے۔

سوزش  دراصل انسانی جسم میں زہریلے عوامل کے خلاف ایک لڑائی ہے جو ماحول سے آتے ہے۔

سوزش ٹشوز کو نقصان پہنچاتی ہے جو سوجن، سرخی، درد اور بخار کی علامات سے ظاہر ہوتی ہے۔ یہ سوزش کئی وجوہات کی بناء پر مختلف ہوتی ہے، اس کی وجہ  مشینی زخم یا خراشیں یا حادثہ  میں گرنے کی وجہ سے بھی ہو سکتی  ہے ،  یا فیکٹریوں اور لیبارٹریوں یا گھر پرتحلیل کرنے والے کیمیکل کے باعث جیسے تیزاب یا الکلی سے ہوسکتی ہے۔

یہ جسمانی عوامل کی وجہ  جیسے سورج کی حرارت یا کسی گرم چیزوں  سے جلنے سے بھی ہوسکتی ہے  ۔  یہ جسم میں انفیکشن یا ہوائی ، غذائی یا   پانی  کے مائیکرو آرگنزمز کی فراہمی جیسے بیکٹیریا، وائرس، آکاش بیل، فنگی کے ذریعے جسم میں زہریلے عوامل کے تبادلے کی وجہ سے بھی ہوسکتی ہے ۔ اس معاملے میں سوزش کو "انفیکشن"  کہا جاتا ہے ۔  یہ انفیکشن ایک سوزش ہے جس کی وجہ مائیکرو آرگنزم ہیں جیسے بیکٹیریا، وائرس، آکاش بیل، فنگس ۔

یہاں ہم انفیکشن کے کئی عوامل کو نمایا ں کرتے ہیں۔

بیکٹیریا (جراثیم)   : یہ یک-خلیہ مائیکرو آرگنزم ہیں، جو وسیع پیمانے پر بیماریاں پھیلانے کے ذمہ دار ہوتے ہیں جیسے گلے کے غدودمیں سوزش، حلق کی سوزش،  معدے میں سوزش، گردن توڑ بخار، دماغ کی سوزش اور خون میں جراثیم ۔

(Zbinden, 2012)       

وائرس: وائرس ایک بہت چھوٹا مائیکرو آرگنائزم ہے کسی بھی جراثیم سے چھوٹے، یہ اس قابل بھی نہیں کہ آزادانہ زندہ رہ سکیں۔ اسی لئے، اس میں اندر گھسنے اور داخل ہونے کے لئے زندہ خلیے کی ضرورت ہوتی ہے  ۔  وائرس کئی اور وسیع پیمانے پر پھیلنے والی بیماریوں کی وجہ ہوتے ہیں  جیسے وبائی زکام کاوائرس اور جگر کا وائرس اور نایاب  اور مہلک  وائرس جیسے ایڈز وائرس ہیں ۔(Konstantinos, 2001)


فنگس  :   فنگس بہت سی جلد کی بیماریوں کی وجہ ہوتی ہے جیسا کہ ٹنیا کیپیٹس جو سر کو متاثر کرتا ہے اور ٹنیا پیڈس جو جلد پر پیروں کی پوروں کے درمیان اثرانداز  ہوتا ہے ۔  فنگل انفیکشن الجھی ہوئی بیماریوں جیسے معدے کی نالی کو متاثر کرسکتے ہیں۔ یہ ایڈز کے مریضوں کےلئے خطرہ ہوسکتے ہیں ۔   (Walton, 1966)

ان وائرل، بیکٹیریل اور فنگل انفیکشن  کے خلاف جدید ادویات اینٹی بائیوٹک استعمال کی جاتی ہیں لیکن اینٹی بائیوٹکس کے بدقسمتی سے مضر اثرات ہوسکتے ہیں ۔

مثال کے طور پر سلفامیتھوایکسزول / ٹرائی میتھوپرائم دونوں پیشاب کی نالی اور معدے کی نالی کے وبائی امراض کے لئے استعمال ہوتی ہیں۔ اگرچہ  کہ ان کے مضر اثرات کی لمبی فہرست ہے ۔

یہ ادویات  پیشاب میں کرسٹل بنانے کی وجہ ہوسکتی ہیں  ۔  ان کے مضر اثرات کے ممکنہ پہلوؤں کے طور پر ان کا علاج ہیمولائیٹک اینیمیا  کی وجہ ہوسکتا ہے جسم میں جہاں خون کے تمام خلیےگلتے ہیں۔ وہ سفید خون کے خلیوں کو کھونے کیوجہ  بنتے ہیں خاص طور پر نیوٹروفلس جو بیکٹیریا اور جراثیم سے لڑنے میں دفاعی نظام کے گرنے کا باعث بنتے ہیں  ۔

اس کے علاوہ  یہ علاج انیمیا، سرخ خون کے خلیوں میں کمی، سفید خون کے خلیوں میں اور خون کے پلیٹیلیٹس میں کمی کی وجہ ہوسکتاہے۔ یہ بیکٹیریا اور جراثیم کے خلاف مدافعتی نظام میں شدید کمزوری کا باعث بنتا ہے اور خون کے پلیٹیلیٹ کی کمی کی وجہ سے جلد پر جامنی دھبوں ، اپنے آپ خون کے بہنے (تھرومبوسی ٹوپینک پرپرا) کا باعث بنتا ہے ۔

اس علاج کے مضر اثرات کی لمبی فہرست  کے ساتھ الرجی  کے ردعمل کا مشاہدہ کیا جاسکتا ہے جو جلد پر نمایاں ہوسکتے ہیں جیسا کہ ارٹیکیڑیا، چھالے کی شکل میں۔ اس کے علاوہ سبکٹانیوس نوڈلیس کی علاما ت جو خارش کا باعث بنتی  ہے۔ اس کے علاوہ، ان علامات میں سب سے مہلک  جلد کا پیلا ہونا جو تیسرے درجے کےداغ بناتے ہیں۔ یہ سب سے مہلک صورتحال جیسے اسٹیون جانسن سنڈروم ہے ۔
سلفامیتھوایکسزول / ٹرائی میتھوپرائم بیہسیٹ کی بیماری کے لئے مضر اثرات بڑھتے ہیں جو منہ اور تناسلی کے چھالوں کے ساتھ خصوصیت ہے۔
اس کے علاوہ سورج کی روشنی سے ہلکی حساسیت ہوتی ہے۔ مضر اثرات بشمول بخار، ممکنہ مہلک ہیپٹک نیکروسس، سردرد،  متلی اور جلد کا پیلا  ہونا جو اس دوا کے استعمال کے 5-3 دنوں کے بعد ظاہر ہوتا ہے۔ بعض اوقات یہ مہلک اور زندگی کے لئے خطرے  کا باعث بنتا  ہے۔
اگرچہ مضر اثرات کا ظاہر ہونا عام نہیں ہے لیکن یہ خود انفیکشن سے بدترین ہوسکتا ہے ۔
اسی لئے، ہمارے متوازن غذائی نظام کی بنیاد "برائی کو فوائد پر غالب آنے سے پہلے بند کرنا"کے اصول کی بنیاد پر ، اور بقراطی اصول "نقصان نہ ہونا" کی بنیاد پر ہے۔  ہم قدرتی اشیاء کے استعمال کی تجویز دیتے ہیں جن کی کارکردگی تحقیقی مطالعات سے بطور اینٹی بائیوٹک ثابت ہوتی ہے۔ ایسی قدرتی اشیاء مضر اثرات سے پاک اور محفوظ ہیں ۔
ہم دونوں مقامی زیتون کے تیل اور سیب کے سرکے میں دارچینی کے عرق کے استعمال کا بطور قدرتی اینٹی بائیوٹک کے لئے مایک مطالعہ جو 2006 میں کراچی میں کیا گیا اور دیکھا گیا کہ دارچینی کا عرق کئی بیکٹیریا جیسا کہ سیلمونیلا جو ایک غذائی بیکٹیریا ہے جو اسہال، الٹی، بخار اور کئی دوسری علامات کا باعث بنتا ہے ان کے خلاف بطور اینٹی بائیوٹک عمل کرتا ہے۔ مزید یہ کہ دارچینی کا عرق ای۔کولای سے لڑتا ہے جو معدے کی خرابی کی شکایات ، کولائٹس اور شدید خونی اسہال کا باعث ہوتا ہے ۔(Chaudhry, 2006) 
دارچینی عرق کا یہ ممکنہ اثر  دارچینی کے تیلوں کی وجہ سے ہے جو دفاعی  نظام کو بڑھاتے ہیں اور نقصان دہ  بیکٹیریا سے مقابلہ کرنے میں مدد کرتے ہیں ۔(Mukhtar, 2012) 
مطالعہ سنیماالڈهائيڈ کی تصدیق کرتا ہے جو دارچینی کا اہم جز ہوتا ہے جو کئی بیکٹیریا سے مقابلہ کرنے میں مدد کرسکتا ہے۔
اس کے علاوہ، دارچینی کا عرق بیکٹیریائی پیشاب کی نالی کے انفیکشن کے علاج کاممکنہ اثر رکھتا ہے۔(Iafe, 2013)   
اسے ڈائی یوریرٹک ایجنٹ کی حیثیت سے استعمال کیا جاسکتا ہے جس سے یہ پیشاب کی نالی کے بیکٹیریا کو صاف کرنے میں مدد کرتا ہے، پہلے اس کا مقابلہ کرتا ہے پھر اسے باہر نکالتا ہے ۔ 
قابل دلچسپ بات یہ ہے کہ انسان بیکٹیریا کے خلاف جدید اینٹی بائیوٹک بنا سکتا ہےجب کہ ہمارے پاس ابھی تک قدرتی شے ہے جیسے دارچینی جو اینٹی بیکٹیریائی اثر رکھتی ہے اور اینٹی وائرل اثر بھی رکھتی ہے۔ کیوں کہ یہ  وبائی زکام  کے مرض پر قابو پاسکتی ہے۔ آیت ہمیں دوبارہ یہ یاد دلاتی ہے : (یہ) خدا کی کاریگری ہے جس نے ہر چیز کو مضبوط بنایا۔النمل (88) (Park, 2003)  
یہ ثابت تھا کہ دارچینی کا عرق فنگل انفیکشن کے خلاف فعال کردار ادا کرتا ہے۔(Giordani, 2006)   
چونکہ ہم اپنے متوازن غذائی نظام پر یقین کرتے ہیں کہ کسی ایک چیز سے علاج کافی نہیں ہے باہمی تعاون کی حقیقت کی وجہ سے جسے ہم نے قرآن پاک سے دریافت کیا، جہاں تمام عبارتیں اور آیات میں غذا اور پینے کا ذکر جمع میں اور باہمی تعاون سے کیا گیا ہے نہ کہ واحد کا اور جب کہ ہماری معیادی بیماریوں کا میکانزم تبدیل ہوتا ہے، اسے مختلف مرکبات، غذاؤں اور میکانزم میں ہونا چاہئیے، جو بیماریوں کے میکانزمز کے خلاف مدافعانہ عمل کرتے ہیں۔ اسی لیے ہم دیکھتے ہیں کہ قرآن پاک میں کسی ایک غذا کا ذکر نہیں کیا گیا بلکہ انکا  ذکر گروہوں میں کیا گیا

اپنی مہارت اور تجربے کی بنیاد پر جو ہم نے قرآن پاک  میں باہمی تعاون کے اصول کو استعمال کر کے حاصل کی ہے ہم سادہ وائرل اور بیکٹیریائی انفیکشن کو ختم کرنے اور خارج کرنے کے لئے پاک مقامی زیتون کے تیل میں زیرے کا عرق استعمال  تجویز کرتے ہیں ۔
انسان ہزاروں  سالوں سے سیب کے سرکے سے واقف ہے اور  وہ  اسے غذا اور کھانے کو محفوظ کرنے کے لئے استعمال کرتا ہے تاکہ انہیں ساتھ رکھیں۔ اس کے علاوہ، سرکہ اپنی مخصوص خصوصیات کی وجہ سے بطور اینٹی سیپٹک استعمال کیا جاتا تھا۔
آرگنک ایسڈز جو سیب کے سرکے میں بطور اینٹی بائیوٹک موجود ہوتے ہیں۔ ایسیٹک ایسڈ سرکے کا اہم جز ہے جو بیکٹیریائی جھلی میں انتشار کی قابلیت رکھتا ہے، بیکٹیرئیواسٹیٹائس اور بایکٹریسیڈال کا بھی کردار ادا کرتا ہے ۔(Entani et.al., 1998)   
زیتون کا تیل دارچینی کے عرق کا محافظ ہے جو خاص طور پر فینول، وٹامن ای اور دوسرے قدرتی اینٹی آکسیڈینٹس پر مشتمل ہے ۔(Morelló et.al., 2005)  
لہٰذا یہ آزاد ریڈیکلز کے خلاف مؤثر ہیں جو انسانی خلیوں کو تباہ کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ ، زیتون کا تیل وائرل، فنگل اور بیکٹیریائی انفیکشن کو صاف کرنے کی قابلیت کے ساتھ دفاعی نظام کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
جیسا کہ ہم نے تمام فعال قدرتی اجزاء ایک شے میں ملائی ہیں، ہم اپنی اشیاء میں باہمی عمل کے اصول کو قائم کرتے ہیں۔ پس، تمام قدرتی اجزاء ایک ساتھ کام کر کے کئی نوعیت کے کام اور کئی طریقے سے باہمی عمل کے اصول کی بلند ترین سطح کو چھوتے ہیں۔ جب کہ دارچینی کا عرق دونوں زیتون کے تیل اور سیب کے سرکے میں محفوظ ہوتا ہے، یہ محفوظ اور مضر  اثرات سے پاک ہے ۔


References:
Zbinden, A., Mueller, N. J., Tarr, P. E., Eich, G., Schulthess, B., Bahlmann, A. S., Keller, P. M. & Bloemberg, G. V. 2012. Streptococcus tigurinus, a novel member of the streptococcus mitis group, causes invasive infections. Journal of clinical microbiology, 50, 2969-2973.

Konstantinos, A. P. & Sheridan, J. F. 2001. Stress and influenza viral infection: Modulation of proinflammatory cytokine responses in the lung. Respiration physiology, 128, 71-77.

Walton, H. 1966. Fungal infections of the skin. British medical journal, 2, 1593.

Chaudhry, N. M. A. & Tariq, P. 2006. Anti-microbial activity of cinnamomum cassia against diverse microbial flora with its nutritional and medicinal impacts. Pakistan Journal of Botany, 38, 169.

Mukhtar, S. & Ghori, I. 2012. Antibacterial activity of aqueous and ethanolic extracts of garlic, cinnamon and turmeric against escherichia coli atcc 25922 and bacillus subtilis dsm 3256.

Iafe, M. 2013. Cinnamon as a prophylaxis against uti in premenopausal women.

Park, K. J. 2003. Evaluation of in vitro antiviral activity in methanol extracts against influenza virus type a from korean medicinal plants. Phytotherapy Research, 17, 1059-1063.

Giordani, R., Regli, P., Kaloustian, J. & Portugal, H. 2006. Potentiation of antifungal activity of amphotericin b by essential oil from cinnamomum cassia. Phytotherapy Research, 20, 58-61.

Entani, E., Asai, M., Tsujihata, S., Tsukamoto, Y. & Ohta, M. 1998. Antibacterial action of vinegar against food-borne pathogenic bacteria including escherichia coli o157: H7. Journal of Food Protection, 61, 953-959.

Morelló, J.-R., Vuorela, S., Romero, M.-P., Motilva, M.-J. & Heinonen, M. 2005. Antioxidant activity of olive pulp and olive oil phenolic compounds of the arbequina cultivar. Journal of agricultural and food chemistry, 53, 2002-2008.

Medina, E., De Castro, A., Romero, C., Ramírez, E. & Brenes, M. 2013. Effect of antimicrobial compounds from olive products on microorganisms related to health, food and agricolture. Microbial pathogens and strategies for combating them: science, technology and education” A Méndez-Vilas (Ed.), Formatex Research Center Publishing, Badajoz, Spain, 1087.



videos balancecure

اسے دیں



ہمارے خبری خطوط کی تائید کریں


تبصرے

کوئی تبصرے نہیں

تبصرہ شامل کریں

Made with by Tashfier

loading gif
feedback