دنیا کی سب سے بڑی سائنسی دستاویزی صحت کی ویب سائٹ آپ کے خاندان کی خوشی اور صحت کے لئے، سائنس اور ایمان کے ساتھ ہم توازن کرتے ہیں

84741387

زیتون کے پتے اور ذیابیطس

زیتون کے  پتے اور ذیابیطس



ایک سادہ تجربہ آپ کی زندگی کا رخ بدل سکتا ہے اور آپ کو روزآنہ انسولین کے درد سے بچا سکتا ہے خاص طور پر اگر آپ کی فیملی میں ذیابیطس موروثی ہے۔ زیتون کے پتوں کا عرق قدرتی زیتون کے تیل میں اور قدرتی سیب کے سرکہ میں زیتون کے پتوں کے عرق سے آپ خود کو اور اپنی فیملی کو ذیابیطس اور اس کی پیچیدگیوں سے بچا سکتے ہیں؟

اللہ تعالٰی نے اپنی پاک کتاب میں زیتون کے درخت اور اس کے پتوں کا ذکر  اشارے میں کیا ہے، فرمایا: "اور وہ درخت بھی (ہم ہی نے پیدا کیا) جو طور سینا میں پیدا ہوتا ہے (یعنی زیتون کا درخت کہ) کھانے کے لئے روغن اور سالن لئے ہوئے اُگتا ہے" سورۃ المومنون (20)۔ اس کے علاوہ، زیتون کے درخت کا ذکر سورۃ نور آیت نمبر 35 میں ہے "موتی کا سا چمکتا ہوا تارہ ہے اس میں ایک مبارک درخت کا تیل جلایا جاتا ہے (یعنی) زیتون"

مطالعات اشارے دیتے ہیں کہ  زیتون  کے پتے کے عرق  کا کئی بیماریوں اور  علامات میں نمایاں کردار ہے۔ ذیابیطس سب سے عام بیماریوں میں سے ہے جس میں تمام زیتون کے پتوں میں قدرتی زیتون کا تیل اور قدرتی سیب کے سرکہ مؤثر ہے۔ ذیابیطس 1 قسم کی علامات  قسم 2 سے ملنا شروع ہوتی ہیں  لیکن کم درجے کے ساتھ جیسا کہ پیاس، بار بار پیشاب آنا، وزن میں کمی، تھکاوٹ، سستی اور بعض اوقات  شعور میں خلل ہوتا ہے۔

پچھلی فلم سے ذیابیطس کی قسم 1 اور قسم 2 ہمارے سیکھنے کے بعد کہ یہ کیسے واقع ہوتی ہیں ہم اب مختلف میکانزمز اور طریقوں سے ڈیابیطس کے لئے زیتون کے پتے کے عرق  کی خصوصیات کو سمجھ سکتے ہیں ۔

2003 میں دی جرنل پلانٹا میڈیکا میں شائع ہونے والا ایک مطالعہ ظاہر کرتا ہے کہ زیتون کا پتا ایک مؤثر جز پر مشتمل ہوتا ہے جسے اولیوروپین سے جانا جاتا ہے، ایک فینولک جز ہے جو زیتون کے پھلوں اور زیتون کے پتے کے عرق میں ترش ذائقے کے ذمہ دار ہے۔ اولیوروپین پانی میں حل ہونے والا محلول ہے، تو اسکا عرق پانی کے استعمال سے بھی کیا جاسکتا ہے۔یہ مرکب زیتون کے پتے کے عرق دوسرے پانی میں حل ہونے والے اجزاء کے ساتھ جیسے پروٹین، نمکیات اور شکر، زیتون کے پھل کو غذائی اہمیت فراہم کرتا ہے۔ کاروائی کا طریقہ کار ہے کہ اولیوروپین خون میں شکر کو کم کرنے میں کردار ادا کرتا ہے جو انزائم الفاایمالیزز (ایک انزائم لبلبے سے ذیادہ  اور لعابی غدود سے کم خارج ہوتا ہے)کوروکنے پر معمور کیا گیا ہے، اس کا خاص کام چھوٹی اکائیوں کے لئے کاربوہائیڈریٹس کو ہائیڈرولائیز کرنا ہے، جو کہ آنت میں گلوکوز کے لئے دوسرے انزائم سے بدل سکتا ہے، اہم شکر جو پہلی توانائی کے ذریعے کو پیش کرتی ہے اور جسم کے ٹشوز میں تبادلہ کر تی ہے۔  خون میں اس ایمیلیز کی ایک چھوٹی سی مقدار ہوتی ہے جو خون میں شکر کی سطح کاشکر کے بڑھنے پر اضافہ ہوتی ہے۔ پس، ایمالیز کے لئے اولیروپین روکنے کا کردار کاربوہائیڈریٹس کے ہائیڈرولائیسس سے بچانے پر کا کام کرتا ہے اور پھر آنت کے خلیوں سے کاربوہائیڈریٹ اور گلوکوز کو جذب ہونے سے دور رکھتے ہیں۔ جس سے جسم میں شکر جذب ہونے کی مقدار کم ہوجاتی ہے۔(Komaki et.al., 2003) 


تمام زیتون کے پتے کا عرق انسولین کے لئے انسولین رسیپٹرس کی حساسیت کو بڑھا سکتا ہے اور اس کے مطابق جسم میں بھی انسولین کا اثر انتہائی بڑھ سکتا ہے۔(Gonzalez et.al., 1992) 


ایک اور مطالعہ جو 2009 میں دی جرنل آف ایگریکلچرل اینڈ فوڈ کیمیسٹری میں شائع ہوا تھا جس میں پایا کہ تمام زیتون کے پتے کے عرق میں اولیروپین اینٹی آکسیڈینٹ کی خصوصیات ہوتی ہے  جو ذیابیطس اور اس سے ہونے والی   پیچیدگیوں سے بچاتی  ہے۔(Jemai et.al., 2009) 


خون میں گلوکوز کی سطحوں میں معیادی اضافہ کئی پیچیدگیوں کا باعث بنتا ہے۔ خون کی نالیوں (شریانوں کی بیماری) کا نقصان پیچیدگیوں میں سے ایک سب سے اہم ہے، چاہے وسیع ہو یا چھوٹی خون کی نالی بھی ہو۔ یہ ہوسکتا ہے جب انسولین کی کارکردگی خلیوں میں گلوکوز کو داخل کرنے میں  ناکام ہوجاتی ہے جو خون میں کلوگوزکی زیادتی کا باعث بنتی ہے اور یہاں خون کی نالیوں کے اینڈوتھیلیل خلیے معمول کی حالت سے زیادہ گلوکوز اٹھاتے ہیں جو معمول کی حالت سے زیادہ اینڈوتھیلیم پر پروٹین کی سطحیں بنانے کا باعث بنیں گے۔ شریان کی دیوار کی پرت سے گلوکوز کا لینا باسل جھلی بنائے گا (باسل جھلی جھلی ہے جس میں اینڈوتھیلیل خلیے پائے جاتے ہیں، جو شریان کی گہری اینڈوتھیلیل تہہ اور پٹھوں کی تہہ کو جدا کرتے ہیں)، ان دونوں کے ملنے کے اثرات وجہ بنتے ہیں جسے مائیکرو ویسکیولر بیماری سے جانتے ہیں، خاص ان باریک نالیوں کے ساتھ جو ریٹینا اور گردوں کے گلومریولی میں پائی جاتی ہے۔ ان دو عوامل کا کام کڑک پن اور کارکردگی کو خراب کرنے کا باعث بن سکتا ہے۔جیسے  یہ گردے کے ذریعے پروٹین کی پیشاب کے مائیکرواسکوپک سے شروع ہوتی ہے اور مکمل گردے کے ناکارہ ہونے یا آنکھ کے پردے کے علیحدہ ہونے یا اندھے پن پر ختم ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ خون میں شکر کے اضافہ  کی وجہ سے اعصاب پر اثر پڑتا ہے جو نیوروپیتھی کا باعث بنتا ہے جو بے حسی ظاہر کرتا ہے، ہاتھ پاؤں میں بے حسی یا وسکیرل نیوروپیتھی، جو مثانے اور پٹھوں کے کام میں خرابی کا باعث بنتا ہے جس کے نتیجے میں قبض ہیضے سے جڑا ہوتا ہے یا عضو کے کام میں خرابی یا ان تمام کی ملی ہوئی پیچیدگیاں ہوتی ہیں۔۔


چونکہ ہم اپنے متوازی غذائی نظام پر یقین کرتے ہیں کہ ایک چیز سے علاج کافی نہیں ہے باہمی تعاون کی حقیقت کی وجہ سے جسے ہم نے قرآن پاک سے دریافت کیا، جہاں تمام عبارتیں اور آیات میں غذا اور پینے کا ذکر جمع میں اور باہمی تعاون سے کیا گیا ہے نہ کہ واحد کا۔جب کہ ہماری معیادی بیماریوں کا میکانزم تبدیل ہوتا ہے، اسے مختلف مرکبات، غذاؤں اور میکانزم میں ہونا چاہئیے، جو بیماریوں کے میکانزمز کے خلاف دفاعی عمل کرتے ہیں۔ اسی لیے ہم دیکھتے ہیں کہ قرآن پاک میں کسی ایک غذا کا ذکر نہیں کیا گیا بلکہ انکا  ذکر گروہوں میں کیا گیا اور اس میں میڈیکل کے باہمی تعاون کے اصول کے ساتھ مکمل ہم آہنگی ہے۔ پھر کیوں ہم جڑی بوٹیوں کو زیتون کے تیل اور سیب کے سرکے میں شامل کرنا چاہتے ہیں؟ اس کے پیچھے قرآن کےراز کیا ہیں؟ 


اپنی مہارت اور تجربے کی بنیاد پر جو ہم نے قرآن پاک  میں باہمی تعاون کے اصول کو استعمال کر کے حاصل کی ہے، ہم کنواری زیتون کے تیل میں زیتون کے پتوںکا عرق کے استعمال کی تجویز دیتے ہیں کیوں کہ قدرتی کنواری زیتون کے تیل جو زیتون کے پتوں کے عرق کو تحفظ دیتا ہے خون میں شکر کی سطح  کوکم کرنے کے لئے کام کرتا ہے۔


ایک مطالعہ جو دی جرنل آف فوڈ بائیوکیمسٹری میں 2011 میں شائع ہوا  جس میں تصدیق کی کہ زیتون کا تیل الفا-گلوکوزائیڈ اس اور الفا-ایمیلیز   انزائمز کو روکتا ہے جو نظام انہضام میں ہاضمے اور کاربوہائیڈریٹس کے ہائیڈرولائزز کا ذمہ دار ہوتے ہیں۔یہ اس شکر کو مکمل ہاضمے سے روکتا ہےاور انہیں مونوسکارائڈ میں تبدیل کرتا ہے۔ پس،  کھائی جانے والی غذا سے آزادشدہ شکر کی مقدار  کم کرتا ہے  اور  ان کے جذب کرنےکو کم کرکے خون میں گلوکوز کے مالیکیولزکی کمی میں مدد دیتا ہے(Loizzo et.al., 2011) 


مزید یہ کہ قدرتی زیتون کا تیل اینٹی اکسیڈینٹس سے بھرپور ہے جیسا کہ مونوان سیچوریٹڈچکنائی، کلوروفل اور کیروٹینوئیڈ۔ پس، یہ اینٹی آکسیڈینٹس ذیابیطس کی پیچیدگیوں سے بچاؤ کے لئے مدد کرتا ہے جو آکسیڈیشن کے عمل کی وجہ سے ہوتا ہے۔ اس کے نتیجے میں، اس کے اینٹی آکسیڈینٹ اثر میں زیتون کے پتے کا عرق کا باہمی تعاون اور ویسے ہی میکانزم کو چلاتا ہے  لیکن دوسرے طریقےسے۔ اس کے علاوہ یہ انسولین کے لئے  انسولین رسیپٹر کی حساسیت کو بڑھادیتے ہیں جو کہ خاص طور پر قسم 2 کی ذیابیطس کے مریضوں کے لئے مفید ہے ، انہیں اکثر انسولین کی انسولین حساسیت کی کمی ہوتی ہے خاص طور پر موٹے لوگوں میں میٹابولک سنڈروم کے ساتھ۔ زیتون کا تیل انسولین کے لئے انسولین رسیپٹر کی حساسیت بڑھانے کے ذریعے خون میں ٹرائیگلسرائڈکی کمی میں اہم کردار اداکرتا ہے اور وزن کم کرنے کا باعث بنتا ہے(Perez-Martinez et.al., 2011)    

 

ہم قدرتی سیب کے سرکے میں زیتون کے پتوں کا آبی عرق  استعمال کرنے کا مشورہ دیتے ہیں۔ ایک مطالعہ جو 2006 میں شائع ہوا تھا دیکھاتا ہے کہ ایسیٹک ایسڈ (سیب کے سرکے کا ایک اہم جز) ذیابیطس چوہوں کے گروہ میں خون میں شکرکم کرنے میں مؤثر کردار ادا کیا۔نتائج دیکھاتے ہیں کہ چوہے جن کو آٹھ ہفتوں کے لئے ایسٹک ایسڈ دیا گیا تھا ان کی شکر کی سطح کم تر ہے ان سے جنہوں نے ایسیٹک ایسڈ نہیں لیا تھا۔ یہ خون میں شکر کی سطحوں کی کم ہوتی ہوئی مقدار میں قدرتی سیب کے سرکے کے کردار کا مظاہرہ کرتا ہے۔(Sakakibara et.al., 2006) 


مزید قدرتئ سیب کا سرکہ جو زیتون کے پتے کے عرق کو محفوظ کرتا ہے ذیابیطس شکری سے بچاؤ میں مدد کرتا ہے۔  ایک مطالعہ جو 2014 میں دی جرنل فوڈ سائنس میں شائع ہوا تھا جس میں معلوم ہوا کہ قدرتی سیب کا سرکہ میں اینٹی-آکسیڈنٹ بشمول فینول کی زیادہ فیصد پر مشتمل ہوتا ہے۔ ہم نے ذکر کیا تھا کہ آکسیڈیشن  عمل ہے جو ذیابیطس کی پیچیدگیوں کو بڑھانے کے لئے مدد کرتا ہے۔(Budak et.al., 2014)

    

یہاں ملانے کا اصول اور میڈیکل  باہمی تعاون  آتا ہے  سونف کے آبی عرق اور قدرتی سیب کے سرکے کے درمیان جن کے ایک جیسے اثرات ہوتے ہیں لیکن مختلف میکانزم کے ساتھ اور ان کا ملاپ ہمیں خوف میں کمی کے لئے مزید فوائد دیتا ہے اس سے کہ اگر ہمیں ان میں سے کسی کو اکیلے لیں۔


References:


Budak, N. H., Aykin, E., Seydim, A. C., Greene, A. K. & Guzel-Seydim, Z. B. 2014. Functional properties of vinegar. Journal of Food Science, 79, R757-R764.


Gonzalez, M., Zarzuelo, A., Gamez, M. J., Utrilla, M. P., Jimenez, J. & Osuna, I. 1992. Hypoglycemic activity of olive leaf. Planta Med, 58, 513-515.


Jemai, H., El Feki, A. & Sayadi, S. 2009. Antidiabetic and antioxidant effects of hydroxytyrosol and oleuropein from olive leaves in alloxan-diabetic rats. Journal of Agricultural and Food Chemistry, 57, 8798-8804.


Komaki, E., Yamaguchi, S., Isafumi, M., Kinosita, M., Kakehi, K. & Tsukada, Y. 2003. Identification of anti-α-amylase components from olive leaf extracts. Food Science and Technology Research, 9, 35-39.


Loizzo, M., Lecce, G., Boselli, E., Menichini, F. & Frega, N. 2011. Inhibitory activity of phenolic compounds from extra virgin olive oils on the enzymes involved in diabetes, obesity and hypertension. Journal of Food Biochemistry, 35, 381-399.


Perez-Martinez, P., Garcia-Rios, A., Delgado-Lista, J., Perez-Jimenez, F. & Lopez-Miranda, J. 2011. Mediterranean diet rich in olive oil and obesity, metabolic syndrome and diabetes mellitus. Current Pharmaceutical Design, 17, 769-777.


Sakakibara, S., Yamauchi, T., Oshima, Y., Tsukamoto, Y. & Kadowaki, T. 2006. Acetic acid activates hepatic ampk and reduces hyperglycemia in diabetic kk-a(y) mice. Biochemical and Biophysical Research Communications, 344, 597-604.





videos balancecure

اعلن معنا

اسے دیں



ہمارے خبری خطوط کی تائید کریں


تبصرے

کوئی تبصرے نہیں

تبصرہ شامل کریں

Made with by Tashfier

loading gif
feedback