دنیا کی سب سے بڑی سائنسی دستاویزی صحت کی ویب سائٹ آپ کے خاندان کی خوشی اور صحت کے لئے، سائنس اور ایمان کے ساتھ ہم توازن کرتے ہیں

86029886

قینوعا کی خصوصیات

قینوعا کی خصوصیات



ڈاکٹر کہف نے  پوچھا: پیارے ڈاکٹر جمیل صاحب:  میری طرف سے آپ کو مبارکباد اور صد احترام کے ساتھ میں آپ کی خدمت میں عرض کرنا چاہتا ہوں کہ کیا قینوعا کے بیج گندم اور جو کا متبادل ہیں، ان کے فوائد جیسے پروٹین اور کینوا کی اردن میں دستیابی کے بارے میں ۔ میری طرف سے بہت سلام اور احترام آپ کے اور آپ کی زبردست کوششوں پر .

آپ کا  ,

ڈاکٹر کہف درویش.

پیارے محترم ڈاکٹر صاحب: شکل میں اناج کے جیسے ہونے کے باوجود ابھی یہ حقیقت میں درجہ بندی کے مطابق جعلی اناج ہے جیسا کہ یہ چقندر، پالک اور دوسرے پودوں کی فیملی سے ہے نہ کہ یہ کسی اناج کی فیملی سے اس کا تعلق جانا جاتا ہے۔   مزید برآں، یہ ان اناج سے تعلق رکھتے ہیں جن کا قرآن پاک میں ذکر دس مقامات پر کیا گیا ہے۔(Repo-Carrasco-Valencia et.al., 2011)

حقیقت میں سب سے اہم مہر تصدیق اناج  کے لئے جو اللہ (سبحان تعالیٰ) نے بتائی ہے کہ اناج ہلکے چھلکے سے ڈھکے ہوتے ہیں جسے ہوا اڑا لے جاتی ہے "اور بھس واﻻ اناج ہے۔ اور خوشبودار پھول ہیں" (سورہ الرحمٰن)۔ حقیقت میں اناج کا بھوسا کئی معنوں میں شامل ہوسکتا ہے، اس کی معنٰی سے: اناج کا ہلکا چھلکا جو ہوا میں اڑاجاتا ہے۔ اس آیت کی دوسری تشریحات کے معنیٰ ہیں کہ اناج وہ ہیں مکئی، جئی، رائی، گندم، جو، جوار اور دوسرے  جن کو لوگ بطور اناج  درجہ بندی کرتے ہیں ۔

حقیقت میں، اگر ہم تمام اناج کی بناوٹ کا مطالعہ کریں اور ان کی ساخت کا تجزیہ کریں تو ہم دیکھیں گے کہ وہ بحیثیت فیملی کے منفرد ہیں کہ ان کی بناوٹ کی تشریح، کام اور غذائیت  کے لحاظ سے عناصر اور مرکبات کی شرح اور ان کے اندر پائی جانے والی ان کی مقدار میں فرق کے ساتھ تمام اناج ایک ہی ہیں۔

اس اصول کی بنیاد پر، جب کینوا کا موازنہ اناج کی فیملی سے کیا جاتا ہے تو ہم دیکھتے ہیں کہ کینوا کے عناصر اور مرکبات کے معیاراور مقدار میں اناج کی کئی فیملی سے مختلف ہے جن کا قرآن نے بطور اناج کہا ہے۔ شکل کے لحاظ سے کینوا اناج سے مختلف ہے کیونکہ کینواکا چھلکا اناج کے چھلکے سے موٹا ہے۔(Konishi et.al., 2004) .

مزید برآں، کینوا کے چھلکے خصوصیت کے لحاظ سے ذائقے میں ترش اور گلائیکوسائیڈز سے بھرپور ہوتے ہیں جب کہ یہ گلائیکوسائیڈز اناج کے چھلکوں میں نہیں پائے جاتے جیسا کہ گندم اور جو کے چھلکے ۔(Ma et.al., 1989) . دوسری طرف، کینوا کے چھلکے چڑیوں کے لئے زہریلے ہوتے ہیں یہ کینوا کو زہریلا بناتا ہے تو پرندے کینوا کے بیج کھانے سے بچتے ہیں۔ اسی لئے کینوا کاشت کاری کے دوران پرندوں اور جانوروں سے محفوظ ہوتا ہے۔(James, 2009)

حقیقت میں پودوں کے اندر زہر پیدا ہونا خاص طور پر ان کی نشونما کی شروعات  اور ان کی نشونما ہونے کے ساتھ یہ ایک زبردست طریقہ سمجھا جاتا ہے جس میں پودے بذات خود خطرے کے خلاف اپنا تحفظ کرتے ہیں تا کہ ان کی نشونما کے دوران انہیں کوئی خطرہ نہ ہو۔ میں ایک پوری فلم پودوں کے بارے میں پیش کروں گا جو اپنی نشونما کے دوران انتہائی زہریلا سائینائیڈ بناتے ہیں اور کیسے سائینائیڈ کام کرتا ہے بطور تحفظ کے عوامل ان پودوں کے جانوروں کے خلاف کہ وہ نشونما کے دوران اسے نہ کھا سکیں اور پودوں کے حصوں میں اس سائینائیڈ کا بتدریج کم ہونا پودے کے پروان چڑھنے، نشونما پانے اور مکمل ہونے تک ۔

درحقیقت ، پرندوں پر کینوا کے چھلکوں کا زہریلا اثر ہونے کے ساتھ اس کا انسان پر بھی منفی اثر ہوتا ہے ۔(James, 2009) . تحقیقات دیکھاتی ہیں کہ یہ نظام تنفس، آنکھ اور نظام انہضام کو متاثر کرتا ہے۔ جسم میں داخل ہوکر ان نظاموں میں خرابی کا باعث بنتا ہے۔(Schulz et.al., 2004) 

مزید یہ کہ مطالعے دیکھاتے ہیں کہ کینوا کے چھلکے میں زہریلا گلائیکوسائیڈ ہیماٹائیلوسس کا باعث بنتا ہے (لیبارٹری میں جب ان گلائیکوسائیڈز کے ساتھ خون کے سرخ خلیوں کو سہنے کے لئے رکھا جاتا ہے تو خون کے سرخ خلیے حل ہوجاتے ہیں)۔ (Podolak et.al., 2010)  
مزید یہ کہ کینوا کے چھلکے کے گلائیکوسائیڈزکو کپڑے دھونے میں بطور صفائی اور جراثیم کش خاص طور پر انسانی جلد پر ہونے والے زخم کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔
اسی لئے کینوا کا چھلکا نقصان دہ، نہ کھائے جانے والا اور انسان کے لئے زہریلا ہے اگر کھایا جائےبرعکس تمام معلوم اناج کے چھلکوں کے جن کا قرآن پاک میں ذکر بطور "اناج کے بھوسے کے" کیا گیا تھا۔سائنسی مطالعوں نے ثابت کیا ہے کہ اناج جیسے گندم، جو، مکئی اور جئی کے چھلکوں کے فوائد ان کے اندرموجود مغز سے زیادہ ہیں۔ ان پہلوؤں میں یہ ایک ہے جس کا حوالہ قرآن پاک کے عجائبات  جو لیبارٹری کے تجزیوں کی تیکنیک اور آزمائشوں کی دریافت سے صدیوں پہلے سے ہے۔ یہ دوسرا پہلو ہے جو اناج کو کینوا سے جدا کرتا ہے جہاں تمام  اناج کے چھلکے مفید اور صحت کے لئے اچھے جانے جاتے ہوتے ہیں جب کہ کینوا کے چھلکے زہریلے اور انسان کے لئے زہر ہوتے ہیں۔
دوسری طرف، تیسرا فرق اناج کے بھس اور کینوا میں خوردنی مواد میں ہے۔ اناج کے خوردنی مواد میں اس کے چھلکوں سے کم فائدے ہوتے ہیں  لیکن کینوا کے خوردنی مواد (جعلی اناج) اس کے زہریلے چھلکے سے زیادہ عناصر سے بھرپور ہوتےہیں۔ کینوا کا مواد دوسرے اناج میں منفرد سمجھا جاتا ہے کیوں کہ یہ امینو ایسڈز سے بھرپور ہوتا ہے جب کہ اس میں گلیسائن کی کمی ہوتی ہے۔ مزید یہ کہ کینوا کے خوردنی مواد فاسفورس، میگنیشیم، آئرن اور کیلشئیم سے بھرپور ہونے کی وجہ سے منفرد ہوتا ہے  (James, 2009) لیکن یہ  گندم اور دوسرے اناج سے کم کمیاب عناصر پر مشتمل ہوتا ہے۔
کینوا کے چھلے میں موجود خاص انزائم کا مواد اناج کے چھلکے سے کم ہوتا ہے۔
چوتھا اہم فرق، اس اناج کے بھوسے اور کینوا کے موازنے میں جانا گیا ہے کہ کینوا کے خوردنی مواد میں گلوٹن اور لیکٹوس نہیں ہوتے ہیں۔ اسی لئے کینوا کا خوردنی مواد انہیں تجویز کیا جاتا ہے جو لیکٹوس اور گلوٹن برداشت نہیں کرسکتے ہیں۔ کیوں کہ یہ علامات ان انسانوں میں پائی جاتی ہیں جن کے جسم میں گلوٹن اور دودھ کی اشیاء  کو ہضم کرنے کے لئے انزائم کی مقدار کافی نہیں ہوتی (Alvarez-Jubete et.al., 2010)  تو ان لوگوں میں غیر ہضم گلوٹین ہوسکتا ہے الرجی کے ردعمل کی وجہ بن سکتا ہےعلامات میں نظر آتا ہے جیسے اسہال، نظام انہضام میں خرابی، جلد الرجی یا چھوٹے بچوں کی نشونما کا نہ بھی ہونا ہیں۔
اسی لئے، متوازن غذائی نظام میں ہم کینوا کے خوردنی مواد کو بطور اچھے غذائی ذرائع کے طور پر درجہ دیتے ہیں لیکن یہ اناج سے زیادہ اہم نہیں ہیں بلکہ غذائی قدر میں ان کے برابر بھی نہیں ہے۔ اسی لئے اسے بطور "جعلی اناج" کا درجہ دیا گیا ہے۔(Repo-Carrasco et.al., 2003) 
تو یہ اناج کے غذائی معیار کے جیسا نہیں ہے جو قرآن پاک میں ذکر کی گئی تھیں۔
متوازن غذائی نظام میں، ہم دیکھتے ہیں کہ کینوا کو ہم اناج کے متبادل کے طور پر استعمال کرسکتے ہیں صرف غیر معمولی حالات میں تمام حالات میں نہیں ۔
بہرحال، میں نے اپنی شائع کتاب کے ایک باب میں تفصیل کے ساتھ " گندم اور جو" کے بارے میں وضاحت کی ہے کہ کیسے قرآنی آیات کئی طریقوں سے تمام اجناس کی اہمیت کا حوالہ دیتی ہیں، ان کی برتری اور عزت تمام غذاؤں سے اوپر ہے اور یہ صرف کینوا تک محدود نہیں ہے۔ یہ تفصیل کے ساتھ واضح کیا گیا  اور قرآن کی آیات میں کئی طریقوں سے اقرار کیا ہے۔

References

Alvarez-Jubete, L., Arendt, E. K. & Gallagher, E. 2010. Nutritive value of pseudocereals and their increasing use as functional gluten-free ingredients. Trends in Food Science & Technology, 21, 106-113.

Gonzalez, J., Roldan, A., Gallardo, M., Escudero, T. & Prado, F. 1989. Quantitative determinations of chemical compounds with nutritional value from inca crops: Chenopodium quinoa (‘quinoa’). Plant foods for human nutrition, 39, 331-337.

James, L. E. A. 2009. Quinoa (chenopodium quinoa willd.): Composition, chemistry, nutritional, and functional properties. Advances in food and nutrition research, 58, 1-31.

Konishi, Y., Hirano, S., Tsuboi, H. & Wada, M. 2004. Distribution of minerals in quinoa (chenopodium quinoa willd.) seeds. Bioscience, biotechnology, and biochemistry, 68, 231-234.

Ma, W.-W., Heinstein, P. & Mclaughlin, J. 1989. Additional toxic, bitter saponins from the seeds of chenopodium quinoa. Journal of Natural Products, 52, 1132-1135.

Nelsen Jr, D. A. 2002. Gluten-sensitive enteropathy (celiac disease): More common than you think. American family physician, 66, 2259-2266.

Podolak, I., Galanty, A. & Sobolewska, D. 2010. Saponins as cytotoxic agents: A review. Phytochemistry Reviews, 9, 425-474.

Repo-Carrasco-Valencia, R. a.-M. & Serna, L. A. 2011. Quinoa (chenopodium quinoa, willd.) as a source of dietary fiber and other functional components. Food Science and Technology (Campinas), 31, 225-230.

Repo-Carrasco, R., Espinoza, C. & Jacobsen, S.-E. 2003. Nutritional value and use of the andean crops quinoa (chenopodium quinoa) and kañiwa (chenopodium pallidicaule). Food reviews international, 19, 179-189.

Schulz, V., Telger, T. C., Hänsel, R., Blumenthal, M. & Tyler, V. E. 2004. Rational phytotherapy: A reference guide for physicians and pharmacists, Springer Berlin Heidelberg.




videos balancecure

اسے دیں



ہمارے خبری خطوط کی تائید کریں


تبصرے

کوئی تبصرے نہیں

تبصرہ شامل کریں

Made with by Tashfier

loading gif
feedback